عجب کی بات ہے ہم ایک جسم فروش عورت کو طوائف کہتے ہیں لیکن اس کے جسم سے کھیلنے والے مردوں کو کوئی نام نہیں دیتے؟؟؟؟؟
ہم سٹیج ڈراموں میں ہنسانے والوں کو میراثی کہتے ہیں لیکن ان کو دیکھ کر ہنسنے والوں کو کوئی نام نہیں دیتے؟؟؟؟
ہم گانا گانے والوں کو کنجر کہتے ہیں لیکن ان ہی کے گانوں پر ناچنے والوں کو کچھ نہیں کہتے؟؟؟؟؟
ہم حرام کھانے والوں کو حرامی کہتے ہیں لیکن ان ہی کے گھر جا کر کھانا کھانے والوں کو کچھ نہیں کہتے؟؟؟؟
ہم رشوت لینے والے کو تو رشوت خور کہتے تھکتے نہیں لیکن اسی کو خود رشوت دے کر اپنے آپ کو کوئی نام نہیں دیتے؟؟؟؟
ہم دودھ میں پانی ملانے والے کو تو برا کہتے ہیں لیکن اسی سے دودھ لینے والے کو کبھی کچھ نہیں کہتے؟؟؟؟
ہم کوڑا اٹھانے والے کو تو فخر سے چوڑا کہتے ہیں لیکن سڑکوں پر گندگی پھیلالنے والوں کو کچھ بھی نہیں کہتے؟؟؟
کیا کبھی ہم بھی اپنے لئے بھی یہ ہی الفاظ استعمال پسند کریں گے یاد رکھیں انقلاب دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے نہیں آتا، جس دن ہمیں یہ بات سمجھ آ جائے گی اس دن اس ملک میں انقلاب آ جائے گا ۔






0 comments:
Post a Comment