Welcome To

URDU SHAYARI

Welcome To

URDU SHAYARI

Welcome To

URDU SHAYARI

Welcome To

URDU SHAYARI

Welcome To

URDU SHAYARI

Sunday, 20 September 2015

انقلاب


عجب کی بات ہے ہم ایک جسم فروش عورت کو طوائف کہتے ہیں لیکن اس کے جسم سے کھیلنے والے مردوں کو کوئی نام نہیں دیتے؟؟؟؟؟
ہم سٹیج ڈراموں میں ہنسانے والوں کو میراثی کہتے ہیں لیکن ان کو دیکھ کر ہنسنے والوں کو کوئی نام نہیں دیتے؟؟؟؟
ہم گانا گانے والوں کو کنجر کہتے ہیں لیکن ان ہی کے گانوں پر ناچنے والوں کو کچھ نہیں کہتے؟؟؟؟؟
ہم حرام کھانے والوں کو حرامی کہتے ہیں لیکن ان ہی کے گھر جا کر کھانا کھانے والوں کو کچھ نہیں کہتے؟؟؟؟
ہم رشوت لینے والے کو تو رشوت خور کہتے تھکتے نہیں لیکن اسی کو خود رشوت دے کر اپنے آپ کو کوئی نام نہیں دیتے؟؟؟؟
ہم دودھ میں پانی ملانے والے کو تو برا کہتے ہیں لیکن اسی سے دودھ لینے والے کو کبھی کچھ نہیں کہتے؟؟؟؟
ہم کوڑا اٹھانے والے کو تو فخر سے چوڑا کہتے ہیں لیکن سڑکوں پر گندگی پھیلالنے والوں کو کچھ بھی نہیں کہتے؟؟؟
کیا کبھی ہم بھی اپنے لئے بھی یہ ہی الفاظ استعمال پسند کریں گے یاد رکھیں انقلاب دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے نہیں آتا، جس دن ہمیں یہ بات سمجھ آ جائے گی اس دن اس ملک میں انقلاب آ جائے گا ۔

چهوڑ دیں گے

ایک دن ہم ایک دوسرے گهر کهانا کهانا ہی چهوڑ دیں گے اس ڈر سے کہ کئی اس نے "کهوتا" ہی نہ پکایا هو 

اُسے کہہ دو

اُسے کہہ دو اپنی حفاظت کیا کرے اے دوست
بےشک سانس اُس کی ہے, پر جان تو وہ میری ہے نہ

ٹوٹ جائے گی تمہاری ضد

ٹوٹ جائے گی تمہاری ضد کی عادت اُس دن
جب پتا چلے گا یاد کرنے والا اب یاد بن کیا

بیٹھ جاتے ہیں دل میں

بیٹھ جاتے ہیں دل میں توڑ کر چلے جاتے ہیں
بےرحم بندے خدا کا گھر بھی نہیں چھوڑتے

خیالوں میں چلے آتے ہیں

خیالوں میں چلے آتے ہیں بنا اجازت کے جو
اے دل اب بھی تو مرتا ہے سادگی پہ اُن کی

Sunday, 13 September 2015

حسرتیں

محبت ہو جائے تو
حسرتیں اور بڑھ جاتی ہیں
,اُسے قریب کرنے کی
,اُسے گلے لگانے کی
اُس کو چوم لینے کی